← Back to Articles

"تو میرا خدا نہیں، میں تیرا بندہ نہیں" — نفس کی اصلاح کا سبق آموز واقعہ

محمد ساجد جامی1 view
دہلی کی جامع مسجد میں ایک مرتبہ ایک بزرگ فجر کی نماز کے بعد سیڑھیوں پر بیٹھ گئے اور یہ کہنے لگے: "تو میرا خدا نہیں، میں تیرا بندہ نہیں، پھر میں تیری کیوں مانوں؟" دیکھنے والے لوگ کہنے لگے: یہ کافر ہو گئے۔ کسی نے کہا: پاگل ہو گئے۔ جب نماز کا وقت آتا تو یہ بزرگ اندر جا کر نماز پڑھتے اور باہر آ کر بیٹھ جاتے، اور پھر یہی بات کہنے لگتے۔ مغرب کے قریب ایک شخص وہاں سے گزرا، ان کی بات سنی اور کھڑا ہو گیا اور پوچھا: حضرت! یہ آپ کا "تو" کہہ کر مخاطب کون ہے؟ اور یہ بات آپ کس سے کہہ رہے ہیں؟ اس پر ان بزرگ کو ہنسی آ گئی اور کہنے لگے: "دہلی جیسے شہر میں ایک ہی عقلمند نظر آیا، کسی نے مجھ سے پوچھا ہی نہیں کہ میرے اس 'تو' کا مخاطب کون ہے اور میں کس سے یہ کہہ رہا ہوں۔ خود ہی سمجھ لیا کہ میں اپنے اللہ سے یہ بات کہہ رہا ہوں، حالانکہ میں اللہ سے نہیں کہہ رہا۔" پھر اس شخص سے کہنے لگے: "تو نے بڑی عقلمندی کا کام کیا کہ مجھ سے پوچھ لیا۔ دراصل میرا مخاطب میرا نفس ہے، اور میں نفس سے مخاطب ہوں کہ اے نفس! تو میرا خدا نہیں، میں تیرا بندہ اور غلام نہیں ہوں، اس لیے میں تیری کیوں مانوں؟ میں تو اپنے اللہ کی مانوں گا۔" اس نے پوچھا کہ یہ بات آپ کیوں فرما رہے تھے؟ اس پر ان بزرگ نے کہا کہ بات یہ ہے کہ آج فجر کی نماز پڑھنے کے بعد مسجد سے نکل رہا تھا تو نفس نے شدت سے تقاضا کیا کہ آج ناشتے میں حلوہ پراٹھا کھلاؤ۔ تو میں نے اس سے کہنا شروع کر دیا کہ تو میرا خدا نہیں ہے اور میں تیرا بندہ نہیں ہوں، اس لیے میں تیری کیوں مانوں؟ میں تو اپنے اللہ کی مانوں گا۔ اور جب بھی وہ (نفس) مجھ سے یہ مطالبہ کرتا ہے، میں یہی جواب دیتا ہوں۔ یہ واقعہ بڑا عبرت انگیز ہے اور اصلاحِ نفس کی فکر کرنے والوں کو ایک عمدہ سبق فراہم کرتا ہے۔ بزرگانِ دین کہتے ہیں کہ ناجائز چیزوں سے بالکلیہ پرہیز کرنا چاہیے، اور جو جائز چیزیں ہوں (مثلاً کھانے پینے کی حلال چیزیں) ان میں پابندی نہیں ہے، لیکن ان میں تقلیل اور کمی کرنی چاہیے — کبھی نفس کو دے دو، کبھی کہہ دو کہ بھائی! اب نہیں، تب ملے گا۔ اس سے نفس قابو میں رہے گا۔ اگر اس کی ہر جائز و حلال خواہش پوری کی گئی تو وہ سر پر بیٹھ جائے گا۔ (فیضان معرفت، جلد اول، ص: 41)
Share: